حکومت کو حکم دیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے پورے ملک میں چینی کے نرخ چالیس روپے فی کلو کےحساب سے فروخت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔
عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ حکم جمعہ کو سپریم کورٹ میں چینی کی قیمتوں کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبوں کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔
دریں اثنا لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں شوگر ملوں کے چینی کے ذخائر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں اور شوگر ڈیلروں سے کہا ہے کہ وہ چینی سرکاری نرخوں پر حاصل کر سکتے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق ایک ضلعی رابطہ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں پنجاب حکومت کے احکامات جمعرات کی شب ہی موصول ہوگئے تھے اور جمعہ کو صبح سویرے پولیس اور محکمہ مال کے عملہ شوگر ملوں پر تعینات کر دیا گیا۔ تمام اضلاع کے انتظامیہ نے شوگر ڈیلروں سے کہا ہے کہ وہ چھتیس روپے ایکس مل قمیت پر چینی گوداموں سے اٹھا سکتے ہیں تاکہ عام صارف کو چینی چالیس روپے فی کلو کے حساب سے مل سکے۔ پاکستان کی اعلی عدلیہ نے ملک بھر میں چینی چالیس روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اگر شوگر ملیں خود اس قمیت چینی فروخت کرنا چاہے تو حکومت رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔واضح رہے کہ تاحال پنجاب کی کھلی مارکیٹ میں چینی سینتالیس روپے سے پچاس روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔
عدالت نے چینی کی قیمت مقرر کرنے کے لیے ایک رکنی کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور ڈاکٹر خالد مرزا اس کمیشن کے چیئرمین ہوں گے۔ کمیشن وفاق اور صوبوں کے علاوہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی رضا مندی پر تشکیل دیا گیا ہے۔
اس سے قبل اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے ڈاکٹر خالد مرزا کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ اُن کا مؤقف تھا کہ چونکہ وہ مسابقتی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں اس لیے اُن کی ذمہ داریوں میں کہیں تضاد پیدا نہ ہو۔
جمعہ کو سپریم کورٹ میں چینی کی قیمتوں کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبوں کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت یہ کمیشن اپنی معاونت کے لیے بنا رہی ہے اور اسے عدالتی اختیار نہیں ہوگا۔
اس ایک رکنی کمیشن کے چیئرمین کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ اپنی معاونت کے کسی بھی سرکاری اہلکار کو اس کمیشن میں شامل کرسکتے ہیں۔
عدالت نے کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ ان درخواستوں کی آئندہ سماعت سے قبل چینی کی قیمتوں کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت چینی کی قیمتوں کے حوالے سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے خلاف نہیں آئی تاہم حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ چینی کے نرخ ایسے مقرر کیے جائیں جس سے ملک کے تمام حصوں میں چینی کی دستیابی ممکن ہو۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ حکومت ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ذخیرہ کی ہوئی چینی کو مارکیٹ میں لائے۔
سپریم کورٹ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے بوگس دستاویز عدالت میں پیش کرنے پر شوگر ملز کے قائمقام چیئرمین کو عدالت میں طلب کیا اور اُن کی سرزنش کی۔ عدالت کا کہنا تھا ملک میں چینی کا جعلی بحران پیدا کیا گیا۔ عدالت نے بوگس دستاویز پیش کرنے کا معاملہ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کو بھجوا دیا اور درخواستوں کی سماعت سولہ اکتوبر تک ملتوی کردی۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment